السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3763. -- باب: الهدنة على أن يرد الإمام من جاء بلده مسلما من المشركين
-- باب: اس شرط پر جنگ بندی کا بیان کہ مشرکین میں سے جو کوئی مسلمان ہو کر امام کے ملک میں آئے گا امام اسے واپس لوٹا دے گا۔
حدیث نمبر: 18831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فِي قِصَّةِ الْحُدَيْبِيَةِ وَخُرُوجِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ لَمَّا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَى بَيْنَهُمَا الْقَوْلُ حَتَّى وَقَعَ الصُّلْحُ عَلَى أَنْ تُوضَعَ الْحَرْبُ بَيْنَهُمَا عَشْرَ سِنِينَ، وَأَنْ يَأْمَنَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَأَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ عَامَهُمْ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَدِمَهَا خَلَّوْا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَكَّةَ فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا، وَأَنْ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا بِسِلَاحِ الرَّاكِبِ وَالسُّيُوفِ فِي الْقُرُبِ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَانَا مِنْ أَصْحَابِكَ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَأَنَّهُ مَنْ أَتَاكُمْ مِنَّا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَدْتَهُ عَلَيْنَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي كَتَبَةِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: فَإِنَّ الصَّحِيفَةَ لَتُكْتَبُ إِذْ طَلَعَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي الْحَدِيدِ وَقَدْ كَانَ أَبُوهُ حَبَسَهُ فَأَفْلَتَ، فَلَمَّا رَآهُ سُهَيْلٌ قَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ وَجْهَهُ وَأَخَذَ بِلُبَّتِهِ فَتَلَّهُ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدْ وَلِجَتِ الْقَضِيَّةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكَ هَذَا. قَالَ:" صَدَقْتَ". وَصَاحَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أَأُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ يَفْتِنُونَنِي فِي دِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي جَنْدَلٍ:" أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، إِنَّا قَدْ صَالَحْنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَجَرَى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الْعَهْدُ، وَإِنَّا لَا نَغْدِرُ". فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِ أَبِي جَنْدَلٍ وَأَبُوهُ يَتُلُّهُ وَهُوَ يَقُولُ: أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّمَا هُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِهِمْ دَمُ كَلْبٍ. وَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُدْنِي مِنْهُ قَائِمَ السَّيْفِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: رَجَوْتُ أَنْ يَأْخُذَهُ فَيَضْرِبَ بِهِ أَبَاهُ فَضَنَّ بِأَبِيهِ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي التَّحَلُّلِ مِنَ الْعُمْرَةِ وَالرُّجُوعِ، قَالَا: وَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَاطْمَأَنَّ بِهَا أَفْلَتَ إِلَيْهِ أَبُو بَصِيرٍ عُتْبَةُ بْنُ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْأَخْنَسُ بْنُ شَرِيقٍ وَالْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ عَوْفٍ وَبَعَثَا بِكِتَابِهِمَا مَعَ مَوْلًى لَهُمَا وَرَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اسْتَأْجَرَاهُ لِيَرُدَّ عَلَيْهِمَا صَاحِبَهُمَا أَبَا بَصِيرٍ فَقَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَا إِلَيْهِ كِتَابَهُمَا، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَصِيرٍ فَقَالَ لَهُ:" يَا أَبَا بَصِيرٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ صَالَحُونَا عَلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ، وَإِنَّا لَا نَغْدِرُ فَالْحَقْ بِقَوْمِكَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَرُدُّنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ يَفْتِنُونَنِي فِي دِينِي وَيَعْبَثُونَ بِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٣٨١⦘ اصْبِرْ يَا أَبَا بَصِيرٍ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللهَ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا". قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو بَصِيرٍ وَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ جَلَسُوا إِلَى سُورِ جِدَارٍ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِلْعَامِرِيِّ: أَصَارِمٌ سَيْفُكَ هَذَا يَا أَخَا بَنِي عَامِرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَنْظُرُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ. فَاسْتَلَّهُ فَضَرَبَ بِهِ عُنُقَهُ وَخَرَجَ الْمَوْلَى يَشْتَدُّ فَطَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَذَا رَجُلٌ قَدْ رَأَى فَزَعًا". فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ قَالَ:" وَيْحَكَ مَا لَكَ"؟ قَالَ: قَتَلَ صَاحِبُكُمْ صَاحِبِي. فَمَا بَرِحَ حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَصِيرٍ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَفَتْ ذِمَّتُكَ وَأَدَّى الله عَنْكَ وَقَدِ امْتَنَعْتُ بِنَفْسِي عَنِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يَفْتِنُونِي فِي دِينِي وَأَنْ يَعْبَثُوا بِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْلُ امِّهِ مِحَشَّ حَرْبٍ لَوْ كَانَ مَعَهُ رِجَالٌ". فَخَرَجَ أَبُو بَصِيرٍ حَتَّى نَزَلَ بِالْعِيصِ وَكَانَ طَرِيقَ أَهْلِ مَكَّةَ إِلَى الشَّامِ فَسَمِعَ بِهِ مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَبِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَلَحِقُوا بِهِ حَتَّى كَانَ فِي عُصْبَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَرِيبٍ مِنَ السِّتِّينَ أَوِ السَّبْعِينَ، فَكَانُوا لَا يَظْفَرُونَ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا قَتَلُوهُ، وَلَا تَمُرُّ عَلَيْهِمْ عِيرٌ إِلَّا اقْتَطَعُوهَا حَتَّى كَتَبَتْ فِيهَا قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ لَمَا آوَاهُمْ فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ.
عروہ رحمہ اللہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے حدیبیہ کا قصہ روایت کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات چیت ہوئی اور دس سال کے لیے جنگ بندی طے پائی تو لوگ ایک دوسرے سے بے خوف ہو گئے۔ اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس جائیں اور آئندہ سال آ کر مکہ میں تین دن تک قیام کر سکتے ہیں اور مکہ میں داخلے کے وقت اسلحہ اور تلواریں میان میں رکھیں گے اور تمہارا کوئی شخص بغیر ولی کی اجازت کے ہمارے پاس آ گیا تو واپس نہ کیا جائے گا، لیکن ہمارا کوئی شخص آپ کے پاس آیا تو آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ انہوں نے معاہدے کی تحریر کا تذکرہ کیا۔ ابھی معاہدہ لکھا جا رہا تھا کہ سیدنا ابو جندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ لوہے کی بیڑیوں میں چلتے ہوئے آ گئے۔ ان کے باپ نے انہیں قید کر رکھا تھا، جب سہیل نے دیکھا تو کھڑے ہو کر ان کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا اور گردن سے پکڑ کر گرا دیا۔ سہیل نے کہا: اے محمد! اس کے آنے سے پہلے ہمارے درمیان معاہدہ طے پا چکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا۔“ تو سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے مسلمانو! کیا میں واپس کیا جاؤں گا؟ یہ مجھے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”صبر کرو، اللہ تمہارے لیے اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کے اسباب پیدا فرما دے گا کیونکہ ہمارے درمیان عہد ہو چکا ہے جس کو ہم توڑنا نہیں چاہتے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب اس کا والد اسے گرائے ہوئے تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو جندل! صبر کرو، کیونکہ مشرکین کا خون کتے کے خون کی طرح ہے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار کا دستہ اس کے قریب کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے امید تھی کہ وہ اسے پکڑ کر اپنے باپ کو مار ڈالے گا، لیکن اس نے اپنے باپ کو بچا لیا، پھر اس نے عمرہ سے حلال ہونے اور واپسی کا تذکرہ کیا، دونوں یعنی سیدنا مسور بن مخرمہ اور مروان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آ گئے تو پیچھے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ بھی بھاگ کر آ گئے، یعنی عتبہ بن اسید بن جاریہ ثقفی جو بنو زہرہ کے حلیف تھے، اخنس بن شریق اور ازہر بن عبد عوف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا۔ ان کا ایک غلام اور دوسرا بنو عامر بن لؤی کا شخص اس خط کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس میں مطالبہ تھا کہ ابو بصیر کو واپس کیا جائے۔ انہوں نے خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے ابو بصیر! آپ جانتے ہیں کہ ہماری اس قوم سے صلح ہے اور ہم وعدہ توڑنا نہیں چاہتے، آپ اپنی قوم کے پاس چلے جائیں۔“ تو سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے مشرکین کی جانب واپس کریں گے، جو مجھے دین کے بارے میں فتنے میں ڈال دیں اور میرے ساتھ کھلواڑ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بصیر! صبر کرو، ثواب کی نیت کرو۔“
”اللہ تمہارے اور کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کی کشادہ راہ مہیا کر دیں گے۔“ وہ دونوں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو لے کر ذوالحلیفہ تک پہنچے تو ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھ گئے، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے عامری شخص سے کہا: اے بنو عامر والے! آپ کی تلوار کافی مضبوط لگتی ہے؟ اس نے کہا: تلوار تو مضبوط ہی ہے۔ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟ عامری نے کہا: چاہو تو میان سے نکال کر دیکھ سکتے ہو، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے اس عامری کی گردن اتار دی تو غلام بھاگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیکھا تو فرمایا: ”اس کا واسطہ کسی خوفناک چیز سے پڑ گیا ہے۔“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: تمہارے ساتھی نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ اتنی دیر میں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ بھی تلوار سونتے آ پہنچے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا وعدہ پورا ہو گیا، اللہ نے آپ کا ذمہ ادا کر دیا، میں نے مشرکین سے اپنے آپ کو محفوظ کیا ہے تاکہ وہ دین کے بارے میں مجھے فتنے میں نہ ڈال سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں پر افسوس! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے، کاش اس کے ساتھ کچھ آدمی ہوتے۔“ تو سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اہل مکہ کا جو راستہ شام جاتا تھا اس پر آ گئے، جب مکی مسلمانوں نے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا، تو وہ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملتے رہے، یہاں تک کہ وہ تقریباً ساٹھ یا ستر افراد کا ایک گروہ بن گیا، وہ کسی قریشی شخص کو نہیں چھوڑتے تھے، قتل کر دیتے اور ہر قافلے کو لوٹ لیتے۔ پھر قریش نے مجبور ہو کر خط لکھا کہ ان کو اپنے پاس بلا لو، ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو واپس بلا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18831]
”اللہ تمہارے اور کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کی کشادہ راہ مہیا کر دیں گے۔“ وہ دونوں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو لے کر ذوالحلیفہ تک پہنچے تو ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھ گئے، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے عامری شخص سے کہا: اے بنو عامر والے! آپ کی تلوار کافی مضبوط لگتی ہے؟ اس نے کہا: تلوار تو مضبوط ہی ہے۔ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟ عامری نے کہا: چاہو تو میان سے نکال کر دیکھ سکتے ہو، سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے اس عامری کی گردن اتار دی تو غلام بھاگتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دیکھا تو فرمایا: ”اس کا واسطہ کسی خوفناک چیز سے پڑ گیا ہے۔“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: تمہارے ساتھی نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ اتنی دیر میں سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ بھی تلوار سونتے آ پہنچے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا وعدہ پورا ہو گیا، اللہ نے آپ کا ذمہ ادا کر دیا، میں نے مشرکین سے اپنے آپ کو محفوظ کیا ہے تاکہ وہ دین کے بارے میں مجھے فتنے میں نہ ڈال سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ماں پر افسوس! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے، کاش اس کے ساتھ کچھ آدمی ہوتے۔“ تو سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اہل مکہ کا جو راستہ شام جاتا تھا اس پر آ گئے، جب مکی مسلمانوں نے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا، تو وہ سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملتے رہے، یہاں تک کہ وہ تقریباً ساٹھ یا ستر افراد کا ایک گروہ بن گیا، وہ کسی قریشی شخص کو نہیں چھوڑتے تھے، قتل کر دیتے اور ہر قافلے کو لوٹ لیتے۔ پھر قریش نے مجبور ہو کر خط لکھا کہ ان کو اپنے پاس بلا لو، ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو واپس بلا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18831]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18831 in Urdu