السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3764. -- باب: نقض الصلح فيما لا يجوز وهو ترك رد النساء إن كن دخلن في الصلح
-- باب: ناجائز شرط پر صلح کو توڑ دینا، اور وہ عورتوں کو واپس لوٹانے کا ترک کرنا ہے، اگرچہ وہ صلح (کی شرائط) میں شامل ہوں۔
حدیث نمبر: 18833
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّهُ قَاضَى ⦗٣٨٢⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكِي قُرَيْشٍ عَلَى الْمُدَّةِ الَّتِي جَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَنْزَلَ اللهُ فِيمَا قَضَى بِهِ بَيْنَهُمْ، فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا فَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَأَلْغَطُوا بِهِ أَوْ قَالَ كَلِمَةً أُخْرَى، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ: لَمْ يَقُلْ شَيْخُنَا هَذِهِ الْكَلِمَةَ وَرِوَايَتُهُ فِي نُسْخَةٍ: وَامْتَعَظُوا وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ فَكَاتَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ فَلَمْ يُرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللهُ فِيهِنَّ: {إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ} [الممتحنة: ١٠] . قَالَ عُرْوَةُ: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ} [الممتحنة: ١٢] الْآيَةَ. قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ بَايَعْتُكِ"، كَلَامًا يُكَلِّمُهَا بِهِ، وَاللهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ، مَا بَايَعَهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ حدیبیہ کے دن ایک مدت تک صلح کی، تو اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں قرآن نازل کیا جو ان کے درمیان صلح تھی۔
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کو معاہدہ تحریر کروایا جس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط رکھی تھی کہ ”ہمارا کوئی آدمی اگرچہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہمیں واپس کریں گے“ تو مومنوں نے اس کو ناپسند کیا اور شور کیا یا کوئی دوسری بات کہی۔ اور سہیل بن عمرو کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ تحریر کروایا تو اسی دن ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کیا گیا اور جو مسلمان بھی اس مدت کے اندر مکہ سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا؛ البتہ مومنہ عورتیں، جن میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں تو ان کے گھر والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس نہیں کیا، کیونکہ قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]
”جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو، اللہ ان کے ایمانوں کو بہتر جانتا ہے، اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو کفار کی جانب واپس نہ کرو، وہ عورتیں ان کے لیے اور وہ مرد ان عورتوں کے لیے حلال نہیں ہیں“۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 12]
”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں تو اس بات پر بیعت لیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، چوری، زنا اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا“۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو عورت اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے: ”میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف کلام فرماتے تھے، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کا بیعت کرتے وقت کبھی ہاتھ نہیں چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18833]
(ب) عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کو معاہدہ تحریر کروایا جس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط رکھی تھی کہ ”ہمارا کوئی آدمی اگرچہ آپ کے دین پر ہو، آپ اسے ہمیں واپس کریں گے“ تو مومنوں نے اس کو ناپسند کیا اور شور کیا یا کوئی دوسری بات کہی۔ اور سہیل بن عمرو کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ تحریر کروایا تو اسی دن ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کیا گیا اور جو مسلمان بھی اس مدت کے اندر مکہ سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا؛ البتہ مومنہ عورتیں، جن میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئیں تو ان کے گھر والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس نہیں کیا، کیونکہ قرآن نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]
”جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لیا کرو، اللہ ان کے ایمانوں کو بہتر جانتا ہے، اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو کفار کی جانب واپس نہ کرو، وہ عورتیں ان کے لیے اور وہ مرد ان عورتوں کے لیے حلال نہیں ہیں“۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 12]
”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں تو اس بات پر بیعت لیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، چوری، زنا اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا“۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو عورت اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے: ”میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف کلام فرماتے تھے، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کا بیعت کرتے وقت کبھی ہاتھ نہیں چھوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18833]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18833 in Urdu