🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3770. -- باب: نقض أهل العهد أو بعضهم العهد
-- باب: تمام معاہدین (اہلِ عہد) یا ان میں سے بعض کے عہد توڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18856
وَأَمَّا نَقْضُهُمُ الْعَهْدَ فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَعُثْمَانَ بْنِ يَهُوذَا، أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ قُرَيْظَةَ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: كَانَ الَّذِينَ حَزَّبُوا الْأَحْزَابَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي وَائِلٍ، وَكَانَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ حُيِيُّ بْنُ أَخْطَبَ، وَكِنَانَةُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَمِنْ بَنِي وَائِلٍ حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَوْسِ اللهِ وَحْوَحُ بْنُ عَمْرٍو وَرِجَالٌ مِنْهُمْ خَرَجُوا حَتَّى قَدِمُوا عَلَى قُرَيْشٍ فَدَعَوْهُمْ إِلَى حَرْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَشِطُوا لِذَلِكَ ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي خُرُوجِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ وَالْأَحْزَابُ قَالَ: وَخَرَجَ حُيِيُّ بْنُ أَخْطَبَ حَتَّى أَتَى كَعْبَ بْنَ أَسَدٍ صَاحِبَ عَقْدِ بَنِي قُرَيْظَةَ وَعَهْدِهِمْ فَلَمَّا سَمِعَ بِهِ كَعْبٌ أَغْلَقَ حِصْنَهُ دُونَهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ افْتَحْ لِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَيْكَ، ⦗٣٨٩⦘ فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا حُيِيُّ إِنَّكَ امْرُؤٌ مَشْئَومٌ وَإِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِي بِكَ وَلَا بِمَا جِئْتَنِي بِهِ إِنِّي لَمْ أَرَ مِنْ مُحَمَّدٍ إِلَّا صِدْقًا وَوَفَاءً وَقَدْ وَادَعَنِي مُوَادَعَةً فَدَعْنِي وَارْجِعْ عَنِّي. فَقَالَ: وَاللهِ إِنْ غَلَّقْتَ دُونِي إِلَّا عَنْ خَشْيَتِكَ أَنْ آكُلَ مَعَكَ مِنْهَا فَاحْفَظْهُ، فَفَتَحَ لَهُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لَهُ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ جِئْتُكَ بِعِزِّ الدَّهْرِ بِقُرَيْشٍ مَعَهَا قَادَتُهَا حَتَّى أَنْزَلْتُهَا بِرَوْمَةَ وَجِئْتُكَ بِغَطَفَانَ عَلَى قَادَتِهَا وَسَادَتِهَا حَتَّى أَنْزَلْتُهَا إِلَى جَانِبِ أُحُدٍ، جِئْتُكَ بِبَحْرٍ طَامٍّ لَا يَرُدُّهُ شَيْءٌ. فَقَالَ: جِئْتَنِي وَاللهِ بِالذُّلِّ وَيْلَكَ فَدَعْنِي وَمَا أَنَا عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِي بِكَ وَلَا بِمَا تَدْعُونِي إِلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ حُيِيُّ بْنُ أَخْطَبَ يَفْتِلُهُ فِي الذِّرْوَةِ وَالْغَارِبِ حَتَّى أَطَاعَ لَهُ وَأَعْطَاهُ حُيَيٌّ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ لَئِنْ رَجَعَتْ قُرَيْشٌ وَغَطَفَانُ قَبْلَ أَنْ يُصِيبُوا مُحَمَّدًا لَأَدْخُلَنَّ مَعَكَ فِي حِصْنِكَ حَتَّى يُصِيبَنِي مَا أَصَابَكَ، فَنَقَضَ كَعْبٌ الْعَهْدَ وَأَظْهَرَ الْبَرَاءَةَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُ كَعْبٍ وَنَقْضُ بَنِي قُرَيْظَةَ بَعَثَ إِلَيْهمِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، وَسَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، وَخَوَّاتَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيَعْلَمُوا خَبَرَهُمْ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهُمْ عَلَى أَخْبَثِ مَا بَلَغَهُمْ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ سَبَبِ إِسْلَامِ ثَعْلَبَةَ وَأُسَيْدٍ ابْنَيْ سَعْيَةَ وَأَسَدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَنُزُولِهِمْ عَنْ حِصْنِ بَنِي قُرَيْظَةَ وَإِسْلَامِهِمْ، وَخَرَجَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فِيمَا زَعَمَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَمْرُو بْنُ سُعْدَى الْقُرَظِيُّ فَمَرَّ بِحَرَسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَنَا عَمْرُو بْنُ سُعْدَى، وَكَانَ عَمْرٌو قَدْ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ مَعَ بَنِي قُرَيْظَةَ فِي غَدْرِهِمْ وَقَالَ: لَا أَغْدِرُ بِمُحَمَّدٍ أَبَدًا، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حِينَ عَرَفَهُ: اللهُمَّ لَا تَحْرِمْنِي عَثَرَاتِ الْكِرَامِ، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ فَخَرَجَ حَتَّى بَاتَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ ذَهَبَ فَلَمْ يَدْرِ أَيْنَ ذَهَبَ مِنَ الْأَرْضِ فَذُكِرَ شَأْنُهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ذَلِكَ رَجُلٌ نَجَّاهُ اللهُ بِوَفَائِهِ" وَذَكَرَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّ حُيَيًّا لَمْ يَزَلْ بِهِمْ حَتَّى شَأَمَهُمْ فَاجْتَمَعَ مَلَؤُهُمْ عَلَى الْغَدْرِ عَلَى أَمْرِ رَجُلٍ وَاحِدٍ غَيْرَ أَسَدٍ وَأُسَيْدٍ وَثَعْلَبَةَ خَرَجُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن کعب القرظی اور بنو عمرو بن قریظہ کے ایک شخص عثمان بن یہودا اپنی قوم کے افراد سے نقل کرتے ہیں کہ لوگوں نے لشکر ترتیب دیے۔ بنو نضیر کا گروہ، بنو وائل کا گروہ، بنو نضیر سے حیی بن اخطب، کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق، ابو عمار اور بنو وائل (جو انصار کے قبیلہ اوس اللہ کی ایک شاخ ہے) سے وحوح بن عمرو اور کچھ ان کے قبیلہ کے، یہ تمام مل کر قریش کے پاس آئے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے لیے ابھار رہے تھے۔ پھر اس نے ابوسفیان بن حرب اور لشکروں کے آنے کا تذکرہ کیا اور حیی بن اخطب کی آواز سنی تو قلعہ کا دروازہ بند کر لیا، تو حیی نے کہا: ”اے کعب! تجھ پر افسوس، دروازہ کھولو، میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں“، تو کعب نے کہا: ”اے حیی بن اخطب! تو منحوس آدمی ہے، مجھے نہ تو تیری ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی جو تو لے کر آیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعدہ پورا کرتے ہیں، میرا ان سے معاہدہ ہے تو واپس پلٹ جا، مجھے چھوڑ دے“، تو حیی بن اخطب نے کہا: ”تو نے دروازہ بند کر لیا ہے۔ میں آپ کے ساتھ مل کر دلیا کھانے والا ہوں“۔ اس کو حفاظت کا یقین دلایا تو اس نے دروازہ کھول دیا۔ جب کعب کے پاس گیا تو کہنے لگا: ”اے کعب! میں تیرے پاس زمانہ کی عزت قریش کو لے کر آیا ہوں۔ ان کے ساتھ ان کے سردار بھی ہیں، میں نے انہیں رومہ کے مقام پر اتارا ہے، اور میں تیرے پاس غطفان کی سیادت و قیادت کو لے کر احد کی ایک جانب اتارا ہے۔ میں تیرے پاس موجیں مارتا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں، جس کو کوئی چیز روک نہیں سکتی“، تو کعب نے کہا: ”تو میرے پاس ذلت لے کر آیا ہے، مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ، مجھے تیری اور جس کی دعوت دیتے ہو کوئی ضرورت نہیں“، حیی بن اخطب اس کو پھسلاتا رہا، یہاں تک کہ کعب نے حیی کی بات مان لی اور حیی نے اس کو عہد و پیماں دیا کہ اگر قریش و غطفان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے سے پہلے چلے گئے تو میں آپ کے ساتھ قلعے میں رہوں گا، جو مصیبت و پریشانی آپ کو آئے گی، مجھے بھی آئے گی، تو کعب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد توڑ ڈالا اور برائت کا اظہار کر دیا۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں: عاصم بن عمر بن قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کعب کے عہد توڑنے کی خبر ملی تو سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ، خوات بن جبیر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کو خبر کی تصدیق کے لیے روانہ کیا، تو بات ویسے ہی تھی جیسے خبر ملی تھی۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں: عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ ثعلبہ اور اسید (جو سعیہ کے بیٹے ہیں) رضی اللہ عنہما اور اسد بن عبید رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب نقل فرماتے ہیں اور بنو قریظہ کے قلعے سے اترنے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ اس رات جب وہ قلعہ سے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہرہ دار محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پوچھا: ”کون؟“ کہا: ”میں عمرو بن سعدی ہوں“ تو عمرو نے بنو قریظہ کے ساتھ ان کے غدر میں شمولیت سے معذرت کر لی اور کہا: ”میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی وعدہ خلافی نہ کروں گا“۔ جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پہچان لیا تو کہنے لگے: «اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنِي عَثَرَاتِ الْكِرَامِ» ”اے اللہ! مجھے معزز لوگوں کی لغزشوں (سے درگزر کرنے) سے محروم نہ کرنا“، پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں رات گزاری۔ پھر ان کے جانے کا علم نہ ہو سکا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا: ”اللہ نے اس کی وفا کی وجہ سے نجات دی ہے“۔
موسیٰ بن عقبہ اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حیی بن اخطب اپنی نحوست کے ساتھ ان کے ساتھ شامل رہا، لیکن اسد، اسید اور ثعلبہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18856]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18856 in Urdu