السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3779. -- باب: الإرسال على الصيد يتوارى عنك ثم تجده مقتولا
-- باب: شکار پر جانور چھوڑنے کا بیان جو تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے، پھر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ۔
حدیث نمبر: 18915
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَتَّى أَتَى الرَّوْحَاءَ رَأَى حِمَارًا عَقِيرًا، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ فِي بَعْضِ أَفْنَائِهَا وَقَالَا جَمِيعًا: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا حِمَارٌ عَقِيرٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهُ سَيَجِيءُ". فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَصَبْتُ هَذَا فَشَأْنُكُمْ بِهِ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْإِثَابَةِ بَيْنَ الْعَرْجِ وَالرُّوَيْثَةِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ فِيهِ سَهْمٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يُقِيمَ عِنْدَهُ حَتَّى يُجِيزَ آخِرُ النَّاسِ لَا يَعْرِضُ لَهُ..
عمیر بن سلمہ ضمری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روحاء نامی جگہ پر ایک زخمی گدھے کو دیکھا۔ محمد بن ابی بکر نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ جنگل میں۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ زخمی گدھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو اس کا مالک آ جائے گا۔“ تو بہز قبیلے کا ایک شخص آیا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس کو شکار کیا تھا، آپ اپنے استعمال میں لا سکتے ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے اثابہ نامی جگہ جو عرج اور رویثیہ کے درمیان ہے پہنچے تو ایک ہرن جو سائے میں جسم کو ٹیڑھا کیے ہوئے بیٹھا تھا اور اس میں تیر بھی موجود تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس کے پاس کھڑا کر دیا تاکہ کوئی شخص اسے نہ پکڑے یہاں تک کہ سارے لوگ گزر جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18915]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18915 in Urdu