🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3787. -- باب: ما يذكى به
-- باب: جس چیز کے ذریعے ذبح کیا جا سکتا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18937
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنْا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ أَوْ ظُفُرٌ وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ". وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْمَغَانِمِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ وَإِذَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، كَذَا قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنْ سَعِيدٍ قَالُوا: عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَدْ وَافَقَ حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ أَبَا الْأَحْوَصِ عَلَى رِوَايَتِهِ..
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کل ہم دشمن سے ملنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی کرو، جو چیز خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ، لیکن دانت اور ناخن سے ذبح نہ کیا گیا ہو، میں تمہیں بتاتا ہوں دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔“ جلد باز لوگوں نے بکریاں ذبح کر دیں اور ہنڈیاں پکانے کے لیے رکھ دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہنڈیوں کے پاس سے ہوا تو انہیں انڈیلنے کا حکم دے دیا اور ان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا۔ لوگوں کا اونٹ بھاگ گیا۔ ان کے پاس گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایک شخص نے تیر مارا تو اللہ نے اس کو روک دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ بھاگ جاتے ہیں جس طرح جنگلی جانور ہوتے ہیں۔ جب کوئی اونٹ بھاگ جائے تو اس کے ساتھ یہی سلوک کر کے کھا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18937]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18937 in Urdu