السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3794. -- باب: ما جاء في البهيمة تريد أن تموت فتذبح
-- باب: اس چوپائے کے متعلق کیا مروی ہے جو مرنے کے قریب ہو تو اسے ذبح کر دیا جائے۔
حدیث نمبر: 18957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ، فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو حارثہ کا ایک شخص احد کی کسی گھاٹی میں اونٹنیاں چرا رہا تھا۔ ایک اونٹنی مرنے لگی لیکن اس شخص کے پاس نحر کے لیے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس نے کھونٹی پکڑ کر اس کے لبہ میں دے ماری جس سے خون بہہ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھانے کی اجازت دے دی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18957]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18957 in Urdu