السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3795. -- باب: الحيتان وميتة البحر
-- باب: مچھلیوں اور سمندری مردار کا بیان۔
حدیث نمبر: 18962
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، فَقُلْنَا: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟ قَالَ: نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ الْخَبَطَ بِعِصِيِّنَا ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ، فَأَصَبْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ مِثْلَ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ دَابَّةً تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، فَأَكَلْنَا مِنْهُ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، وَلَقَدْ كُنَّا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ، وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ، وَلَقَدْ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ مِنَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقَامَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنَيْهِ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ فَمَرَّ تَحْتَهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا؟". فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ، فَإِذَا دَابَّةُ الْعَنْبَرِ، وَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، وَقَالَ: فَأَقْعَدَهُمْ فِي عَيْنَيْهِ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کر کے بھیجا تاکہ ہم قریش کے قافلوں کی نگرانی کر سکیں اور ہمارے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی کے علاوہ کوئی زادِ راہ نہ تھا تو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں صرف ایک ایک کھجور دیتے۔ ہم نے پوچھا: تم اس کا کیا کرتے تھے؟ راوی کہتے ہیں: ہم اس کو چوستے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر اس کے بعد پانی پی لیتے جو ہمیں ایک دن کے لیے کافی ہوتا اور ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے جھاڑ کر پانی میں تر کر کے کھا لیتے تو ہمیں ساحلِ سمندر پر ایک بڑے ٹیلے کی مانند ایک مچھلی نظر آئی، اس کا نام عنبر تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے، پھر کہنے لگے: ہم اللہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں، مجبور کیے گئے ہیں، کھاؤ۔ ہم تین سو افراد نے ایک مہینہ تک مچھلی کھائی یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے اور ہم اس مچھلی کی آنکھ کے گھڑے سے ایک گھڑا تیل کا نکال لیتے تھے اور اس سے بیل کی مانند ایک ٹکڑا کاٹ لیتے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے تیرہ آدمی لے کر آنکھ کے سوراخ میں کھڑے کر دیے اور اس کی ایک پسلی کھڑی کر کے اس کے نیچے سے ایک بڑے اونٹ پر کجاوا رکھ کر گزار دیا اور ہم نے اس کا گوشت زادِ راہ کے لیے اختیار کر لیا۔ ہم نے مدینہ میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ نے تمہارے لیے رزق نکالا تھا۔ کیا تمہارے پاس اس کا گوشت ہے، ہمیں بھی کھلاؤ؟“ تو کچھ حصہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا۔
(ب) احمد بن یونس کی روایت میں ہے کہ ہم ساحلِ سمندر پر چلے تو ہم نے ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز دیکھی، جب ہم اس کے قریب آئے تو وہ عنبر مچھلی تھی۔ ہم اس کی آنکھ کے سوراخ سے چربی کا ایک برتن نکال لیتے تھے اور ہم بیل کے مانند اس سے ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھیں اس مچھلی کے آنکھ کے سوراخ میں بٹھایا گیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اس کا گوشت ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18962]
(ب) احمد بن یونس کی روایت میں ہے کہ ہم ساحلِ سمندر پر چلے تو ہم نے ایک بڑے ٹیلے کی مانند کوئی چیز دیکھی، جب ہم اس کے قریب آئے تو وہ عنبر مچھلی تھی۔ ہم اس کی آنکھ کے سوراخ سے چربی کا ایک برتن نکال لیتے تھے اور ہم بیل کے مانند اس سے ٹکڑا کاٹ لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھیں اس مچھلی کے آنکھ کے سوراخ میں بٹھایا گیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اس کا گوشت ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18962]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18962 in Urdu