السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
381. -- باب: الأذان والإقامة للفائتة
-- باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْنَا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَنَا فَقَالَ:" لَا ضَيْرَ أَوْ لَا ضَرَرَ" شَكَّ عَوْفٌ فَقَالَ:" ارْتَحِلُوا" فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ وَنَادَى بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ عَوْفٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور انہوں نے نماز سے سو جانے کے متعلق حدیث بیان کی اور فرمایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہم نے اس کی شکایت کی جو ہمیں پہنچی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں ہے“ (عوف کو شک ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کے الفاظ بولے ہیں یا ضرر کے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں سے کوچ کرو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی سوار ہوئے اور چل پڑے لیکن تھوڑی دور چلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور پانی منگوایا، لوگوں کو نماز کے لیے پکارا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 337»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1897 in Urdu