السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
381. -- باب: الأذان والإقامة للفائتة
-- باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 1901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ زُبَيْدَ بْنَ الصَّلْتِ، خَرَجَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْجُرُفِ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا أَظُنُّ إِلَّا وَأَنِّي قَدِ احْتَلَمَتُ وَمَا شَعَرْتُ وَصَلَّيْتُ وَمَا اغْتَسَلَتُ، قَالَ: فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ وَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبید بن صلت، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جرف کی طرف نکلے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کو احتلام ہو گیا ہے۔ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرا یہی گمان ہے کہ مجھے احتلام ہو گیا ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں تھا اور میں نے بغیر غسل کیے نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے غسل کیا اور جو اپنے کپڑوں میں دیکھا اس کو دھویا اور جو نہیں دیکھا اس پر چھینٹے مارے، پھر اذان دی اور اقامت کہی، پھر انہوں نے سورج کے بلند ہونے کے بعد اطمینان سے نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 3644»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1901 in Urdu