السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19031
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ". زَادَ الْأَصْبَهَانِيُّ فِي رِوَايَتِهِ:" وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا" كَذَا قَالَا عَنْ سِمَاكٍ.
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے۔“ اصبہانی نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ ”مجھے نماز چاشت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔“ [ضعیف] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19031]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19031 in Urdu