السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
382. -- باب: سنة الأذان والإقامة للمكتوبة في حالتي الانفراد والجماعة
-- باب: فرض نماز کے لیے انفراد اور جماعت دونوں حالتوں میں اذان اور اقامت مسنون ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1907
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ:" لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ إِنْ وَجَدَ مَاءً وَإِلَّا يَتَيَمَّمُ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَا يُرَى طَرَفَاهُ" أَوْ قَالَ: طَرْفُهُ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”کوئی شخص کسی چٹیل زمین میں وضو کرتا ہے، اگر اس نے پانی پا لیا تو درست، ورنہ وہ تیمم کرتا ہے اور نماز کا اعلان کرتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے ایسے لشکروں کی امامت کرائی ہے جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔“
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1907]
یہی صحیح ہے کہ یہ موقوف ہے، یہ مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1907 in Urdu