السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3808. -- باب: ما ورد النهي عن التضحية به
-- باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 19100
وَقَدْ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا فَقَالَ:" أَرْبَعٌ" وَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: يَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقَى". قَالَ: فَقُلْتُ لِلْبَرَاءِ: فَإِنِّي أَكْرَهُ النَّقْصَ فِي الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ وَالسِّنِّ. قَالَ: فَاكْرَهْ لِنَفْسِكَ مَا شِئْتَ وَلَا تُحَرِّمْ ذَلِكَ عَلَى أَحَدٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، لَمْ يَذْكُرِ الْقَاسِمَ فِي إِسْنَادِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرَ شُعْبَةُ سَمَاعَ سُلَيْمَانَ مِنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَمِيلُ إِلَى تَصْحِيحِ رِوَايَةِ شُعْبَةَ وَلَا يَرْضَى رِوَايَةَ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کن جانوروں کی قربانی سے بچا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”چار قسم کے جانوروں کی قربانی سے بچا جائے۔“ پھر فرمایا: میرا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے۔ ”کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو اور لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور ایسا بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو اور ایسا بوڑھا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔“ عبید بن فیروز رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سینگ، کان اور دانت کے عیب کو ناپسند کرتا ہوں تو سیدنا براء رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اپنے لیے جو مرضی ناپسند کرو لیکن دوسرے کسی پر حرام نہ کرنا۔
امام بخاری رحمہ اللہ شعبہ کی روایت کو صحیح قرار دینے کی طرف مائل تھے اور عثمان بن عمر کی روایت کو پسند نہیں کرتے تھے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19100]
امام بخاری رحمہ اللہ شعبہ کی روایت کو صحیح قرار دینے کی طرف مائل تھے اور عثمان بن عمر کی روایت کو پسند نہیں کرتے تھے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19100]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19100 in Urdu