السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3808. -- باب: ما ورد النهي عن التضحية به
-- باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 19103
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَجُلًا صَدُوقًا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، زَادَ: وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِالْعَوْرَاءِ. قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: وَذَكَرَ عَضْبَاءَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا الْمُقَابَلَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ طَرَفَا الْأُذُنِ. قُلْتُ: مَا الْمُدَابَرَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ مُؤَخِّرَا الْأُذُنِ. قُلْتُ: مَا الشَّرْقَاءُ؟ قَالَ: تُشَقُّ الْأُذُنُ. قُلْتُ: مَا الْخَرْقَاءُ؟ قَالَ: تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسی کی مثل حدیث ذکر کی ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اضافہ ہے کہ ”ہم کانا جانور قربان نہ کریں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «المُقَابَلَةُ» کا کیا معنیٰ ہے؟ کہتے ہیں: ایسا جانور جس کے کان کی ایک طرف کاٹ دی گئی ہو۔ «المُدَابَرَةُ» کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: جس کا کان پچھلی جانب سے کاٹا گیا ہو۔ میں نے پوچھا: «الشَّرْقَاءُ» کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: جس کا کان پھاڑ دیا گیا ہو۔ میں نے پوچھا: «الخَرْقَاءُ» کیا ہوتا ہے؟ کہتے ہیں: جس کے کان میں سوراخ کر دیا گیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19103]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19103 in Urdu