السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3815. -- باب: كراهة النخع والفرس
-- باب: نخع (حرام مغز تک چھری پہنچا دینے) اور فرس (گردن توڑ دینے) کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19134
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَنَهَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّخْعِ وَأَنْ تُعْجَلَ الْأَنْفُسُ أَنْ تَزْهَقَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالنَّخْعُ أَنْ تُذْبَحَ الشَّاةُ ثُمَّ يُكْسَرُ قَفَاهَا مِنْ مَوْضِعِ الذَّبْحِ لِنَخْعِهِ وَلِمَكَانِ الْكَسْرِ فِيهِ، أَوْ تُضْرَبَ لِيُعْجَلَ قَطْعُ حَرَكَتِهَا فَأَكْرَهُ هَذَا. وَقَالَ: وَلَمْ يُحَرِّمْهَا ذَلِكَ لِأَنَّهَا ذَكِيَّةٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذبح کرتے وقت چھری کو حرام مغز تک لے جانے سے منع فرمایا کہ اس طرح جان بغیر دشواری کے نکل جاتی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «نَخْعٌ» یہ ہوتا ہے کہ بکری کو ذبح کرنے کے بعد ذبح شدہ جگہ سے گردن کو موڑ دیا جائے، تاکہ اس کی حرکت جلد ختم ہو جائے، میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں: اس طرح کرنے سے حرام نہیں ہو جاتا بلکہ اس کو ذبح کے اندر شمار کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19134]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19134 in Urdu