السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3827. -- باب: الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الذبيحة
-- باب: ذبح کرتے وقت رسول اللہ ﷺ پر درود پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19176
فذَكَرَ مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاتَّبَعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَلَا يَشْعُرُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟" فَقُلْتُ لَهُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَوَفَّى نَفْسَكَ فَجِئْتُ أَنْظُرُ. فَقَالَ:" إِنِّي لَمَّا دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنِّي أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ". وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ ابْنِ أَبِي سَنْدَرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خُطِئَ بِهِ طَرِيقُ الْجَنَّةِ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے باغ میں داخل ہونے کے بعد لمبا سجدہ کیا، میں نے تو خیال کیا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت کر لیا ہے، میں نے آگے بڑھ کر سر جھکا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور پوچھا: ”اے عبدالرحمن! کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لمبے سجدے کی وجہ سے میں ڈر گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت کر لیا ہے تو میں دیکھنے کے لیے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں باغ میں داخل ہوا تو جبرائیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھے تو میں اس پر سلامتی کروں گا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے میں اس پر رحمت نازل کروں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو درود پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19176]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو درود پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19176]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19176 in Urdu