🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3828. -- باب: قول المضحي: اللهم منك وإليك فتقبل مني، وقول المضحي عن غيره: اللهم تقبل من فلان
-- باب: قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! یہ تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے، پس تو اسے میری طرف سے قبول فرما“، اور دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے والے کا یہ کہنا: ”اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ثنا عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ:" {إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ}، عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ، بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ". ثُمَّ ذَبَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَفِي رِوَايَةِ الْوَهْبِيِّ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبْشَيْنِ يَوْمَ الْعِيدِ، فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ". وَسَمَّى وَذَبَحَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَجَّهَهُمَا إِلَى الْقِبْلَةِ حِينَ ذَبَحَ، ⦗٤٨٣⦘ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجْهٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا بَعْدَ ذِكْرِ اللهِ:" اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ"، وَفِي الْآخَرِ:" اللهُمَّ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ".
ابو عیاش، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن دو چتکبرے، سینگوں والے خصی مینڈھے ذبح کیے۔ جب ان کو قبلہ رخ کیا تو فرمایا: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ملت ابراہیم پر یکسو ہو کر، اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] یقیناً میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» ”اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، محمد اور ان کی امت کی جانب سے۔“ «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔““ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا۔
(ب) وہبی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح فرمائے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو دعا پڑھی، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ» ”اے اللہ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے، محمد اور ان کی امت کی جانب سے۔“ اور اللہ کا نام لے کر ذبح کیا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی سند سے مروی ہے جس جیسی سند ثابت نہیں ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے قربان کیے، ان میں سے ایک پر اللہ کے ذکر کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! محمد اور آلِ محمد کی جانب سے“ اور دوسرے پر فرمایا: ”اے اللہ! محمد اور امتِ محمد کی جانب سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19184]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19184 in Urdu