السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3837. -- باب: إطعام البائس الفقير وإطعام القانع والمعتر، وما جاء في تفسيرهم
-- باب: خستہ حال فقیر، نیز قانع (سوال نہ کرنے والے محتاج) اور معتر (بن مانگے سامنے آنے والے) کو کھلانے اور ان کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: Q19223
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ} [الحج: 28] ، وَقَالَ: {وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ} [الحج: 36] . قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْقَانِعُ هُوَ السَّائِلُ وَالْمُعْتَرُّ هُوَ الزَّائِرُ وَالْمَارُّ بِلَا وَقْتٍ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: الْقَانِعُ: الْفَقِيرُ، وَالْمُعْتَرُّ: الزَّائِرُ، وَقِيلَ الَّذِي يَتَعَرَّضُ الْعَطِيَّةَ مِنْهَا..
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ ”پس اس میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 28]
اور فرمایا: ﴿وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ ”اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے (دونوں) کو کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قانع سے مراد سوال کرنے والا ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا اور بغیر کسی مقررہ وقت کے گزرنے والا ہے۔“
اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ”قانع سے مراد فقیر ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا ہے، اور کہا گیا ہے کہ (معتر) وہ شخص ہے جو اس (قربانی) میں سے عطیہ لینے کے لیے سامنے آتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19223]
اور فرمایا: ﴿وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾ ”اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے (دونوں) کو کھلاؤ۔“ [سورة الحج: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قانع سے مراد سوال کرنے والا ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا اور بغیر کسی مقررہ وقت کے گزرنے والا ہے۔“
اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ”قانع سے مراد فقیر ہے اور معتر سے مراد ملاقات کے لیے آنے والا ہے، اور کہا گیا ہے کہ (معتر) وہ شخص ہے جو اس (قربانی) میں سے عطیہ لینے کے لیے سامنے آتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19223]
حدیث نمبر: 19223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمَّا رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ لِلدَّافَّةِ ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا"، وَرَوَى جَابِرٌ مَا ذَكَرْنَا كَانَ يَجِبُ عَلَى مَنْ عَلِمَ الْأَمْرَيْنِ مَعًا أَنْ يَقُولَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَعْنًى فَإِذَا كَانَ مِثْلُهُ فَهُوَ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ مِثْلُهُ لَمْ يَكُنْ مَنْهِيًّا عَنْهُ، أَوْ يَقُولَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَقْتٍ ثُمَّ أَرْخَصَ فِيهِ بَعْدَهُ، وَالْآخِرُ مِنْ أَمْرِهِ نَاسِخٌ لِلْأَوَّلِ. قَالَ: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ إِذَا كَانَتِ الدَّافَّةُ عَلَى مَعْنَى الِاخْتِيَارِ لَا عَلَى مَعْنَى الْفَرْضِ، لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى فِي الْبُدْنِ: {فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا} [الحج: ٣٦] ، وَهَذِهِ الْآيَةُ فِي الْبُدْنِ الَّتِي يَتَطَوَّعُ بِهَا أَصْحَابُهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں کے آنے کی وجہ سے منع فرمایا تھا، پھر فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو“ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے وہ روایت کی جو ہم نے ذکر کی، تو جو شخص دونوں باتوں کو جانتا ہو اس پر لازم ہے کہ یوں کہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص وجہ سے منع فرمایا تھا، جب ویسی صورت حال ہو تو ممانعت ہے اور جب ویسی صورت حال نہ ہو تو ممانعت نہیں، یا یوں کہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت میں منع فرمایا، پھر اس کے بعد رخصت دے دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم پہلے حکم کو منسوخ کرنے والا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: معلوم یہ ہوتا ہے کہ دیہاتیوں کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین دن کے بعد قربانی کا گوشت روک رکھنے سے منع فرمانا استحباب کے طور پر تھا، فرض کے طور پر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قربانی کے اونٹوں کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا﴾ [سورة الحج: 36] ”پھر جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور کھلاؤ۔“ اور یہ آیت ان اونٹوں کے بارے میں ہے جنہیں ان کے مالک نفلی طور پر قربان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19223]
امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: معلوم یہ ہوتا ہے کہ دیہاتیوں کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین دن کے بعد قربانی کا گوشت روک رکھنے سے منع فرمانا استحباب کے طور پر تھا، فرض کے طور پر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قربانی کے اونٹوں کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا﴾ [سورة الحج: 36] ”پھر جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور کھلاؤ۔“ اور یہ آیت ان اونٹوں کے بارے میں ہے جنہیں ان کے مالک نفلی طور پر قربان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19223]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19223 in Urdu