السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
389. -- باب: أذان المرأة وإقامتها لنفسها وصواحباتها
-- باب: عورت کا اپنے اور اپنی ساتھیوں کے لیے اذان اور اقامت کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1923
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ ثَوْبَانَ هَلْ عَلَى النِّسَاءِ إِقَامَةٌ فَحَدَّثَنِي أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَأَلْتُ مَكْحُولًا فَقَالَ:" إِذَا أَذَّنَّ فَأَقَمْنَ فَذَلِكَ أَفْضَلُ وَإِنْ لَمْ يَزِدْنَ عَلَى الْإِقَامَةِ أَجْزَأَتْ عَنْهُنَّ قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ: وَإِنْ لَمْ يُقِمْنَ فَإِنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كُنَّا ⦗٦٠١⦘ نُصَلِّي بِغَيْرِ إِقَامَةٍ" وَهَذَا إِنْ صَحَّ مَعَ الْأَوَّلِ فَلَا يُنَافِيَانِ لِجَوازِ فِعْلِهَا ذَلِكَ مَرَّةً وَتَرْكِهَا أُخْرَى لِجَوَازِ الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا وَاللهُ أَعْلَمُ وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَتُقِيمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
(الف) عمرو بن ابی سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ثوبان سے پوچھا: کیا عورتوں پر اقامت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ان کے والد نے مکحول سے نقل کیا کہ وہ اذان دیں اور اقامت کہیں تو یہ افضل ہے اور اقامت سے زیادہ نہ کریں تو یہ ان کو کفایت کر جائے گی، ابن ثوبان کہتے ہیں: اگرچہ وہ اقامت نہ کہیں۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم بغیر اقامت کے نماز پڑھتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1923]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم بغیر اقامت کے نماز پڑھتی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1923 in Urdu