السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3845. -- باب: ما يستدل به على أن العقيقة على الاختيار لا على الوجوب
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ اختیاری ہے، واجب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19275
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ:" لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ". وَكَأَنَّهُ إِنَّمَا كَرِهَ الِاسْمَ، وَقَالَ:" مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ". ⦗٥٠٦⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِذَا انْضَمَّ إِلَى الْأَوَّلِ قَوِيَا، وَقَدْ عَلَّقَ فِيهِمَا ذَلِكَ بِمَحَبَّتِهِ.
زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں «الْعُقُوقَ» (عقوق) کو ناپسند کرتا ہوں۔“ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کے نام کو ناپسند کیا اور فرمایا: ”جس کے ہاں بچے کی پیدائش ہو تو وہ اپنے بچے کی جانب سے جانور ذبح کرنا چاہے تو کرلے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں، اور دونوں میں آپ نے اس (عقیقہ) کو (آدمی کی) پسند پر موقوف رکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19275]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جب پہلی روایت کے ساتھ مل جائے تو دونوں قوی ہو جاتی ہیں، اور دونوں میں آپ نے اس (عقیقہ) کو (آدمی کی) پسند پر موقوف رکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19275]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19275 in Urdu