السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3849. -- باب: لا يمس الصبي بشيء من دمها
-- باب: بچے کو عقیقے کے خون میں سے کچھ نہ لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 19291
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ: يُدَمَّى. أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَيُسَمَّى أَصَحُّ، كَذَا قَالَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، يَعْنِي عَنْ قَتَادَةَ، وَإِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ، وَأَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ.
سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ساتویں دن بچے کا سر مونڈ کر نام رکھ دیا جائے۔
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «يُدَمَّى» (خون لگایا جائے) کا لفظ ہمام کا وہم ہے، اور «يُسَمَّى» (نام رکھا جائے) زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے، اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے حسن سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19291]
ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «يُدَمَّى» (خون لگایا جائے) کا لفظ ہمام کا وہم ہے، اور «يُسَمَّى» (نام رکھا جائے) زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے، اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے حسن سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19291]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19291 in Urdu