السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
392. -- باب: ما يقول إذا فرغ من ذلك
-- باب: جب اس (اذان کے جواب) سے فارغ ہو تو کیا پڑھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1932
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ حَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِمَا عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ:" وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيِّ.
کعب بن علقمہ رحمہ اللہ نے اسی سند اور اسی کے ہم معنی بیان کیا ہے اور فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں۔ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا، اس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1932]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1932 in Urdu