🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3865. -- باب: ما جاء في الفرع والعتيرة
-- باب: فرع (اونٹنی کا پہلا بچہ) اور عتیرہ (رجب کی قربانی) کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19342
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ:" لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ، وَمَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ وَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ". وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ:" حَقٌّ". وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ فَقَالَ:" حَقٌّ، وَلَيْسَ هُوَ أَنْ تَذْبَحَهُ عُرَاةً مِنْ عُرَاةٍ، وَلَكِنْ تُمَكِّنُهُ مِنْ مَالِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ زُخْرُبًّا - يَعْنِي ذَبَحْتَهُ - وَذَلِكَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ، وَتَذْبَحَهُ يَخْتَلِطُ لَحْمُهُ بِشَعَرِهِ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" وَأَنْ تَتْرُكَهُ تَحْتَ أُمِّهِ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ أَوِ ابْنَ مَخَاضٍ".
زید بن اسلم رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد یا چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میدانِ عرفات میں موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عقوق کو پسند نہیں کرتا، جس کے ہاں بچہ پیدا ہو، اگر وہ جانور ذبح کرنا چاہے تو کرے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عتیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حق ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درست ہے، لیکن اس کو ابتدا ہی میں ذبح نہ کیا جائے بلکہ اپنے مال میں رکھ کر مکمل اونٹ بنا کر ذبح کرو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اپنا برتن الٹ دو، اپنی اونٹنی کو (بچے سے محروم کر کے) بے قرار کر دو اور اسے اس حال میں ذبح کرو کہ اس کا گوشت بالوں کے ساتھ ملا ہوا ہو۔“
(ب) عبدالجبار بن علاء رحمہ اللہ، سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس بچے کو ماں کا دودھ پینے دیں یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19342]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19342 in Urdu