السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3865. -- باب: ما جاء في الفرع والعتيرة
-- باب: فرع (اونٹنی کا پہلا بچہ) اور عتیرہ (رجب کی قربانی) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19348
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَوَانَةَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ سَمِعْتُهُ ⦗٥٢٦⦘ يَقُولُ: هُوَ شَيْءٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَطْلُبُونَ بِهِ الْبَرَكَةَ فِي أَمْوَالِهِمْ، فَكَانَ أَحَدُهُمْ يَذْبَحُ بِكْرَ نَاقَتِهِ أَوْ شَاتِهِ فَلَا يَغْذُوهُ رَجَاءَ الْبَرَكَةِ فِيمَا يَأْتِي بَعْدَهُ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ:" فَرِّعُوْا إِنْ شِتْئَمْ"، أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ، وَكَانُوا يَسْأَلُونَهُ عَمَّا كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خَوْفًا أَنْ يُكْرَهَ فِي الْإِسْلَامِ فَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ لَا مَكْرُوهَ عَلَيْهِمْ فِيهِ، وَأَمَرَهُمُ اخْتِيَارًا أَنْ يَغْذُوهُ ثُمَّ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعَةِ فَقَالَ:" الْفَرَعَةُ حَقٌّ، وَأَنْ تَغْذُوهُ حَتَّى يَكُونَ ابْنَ لَبُونٍ زُخْرُبًّا فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَكْفَأَ إِنَاءَكَ، وَتُوَلِّهَ نَاقَتَكَ، وَتَأْكُلَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُهُ: الْفَرَعَةُ حَقٌّ، مَعْنَاهُ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاطِلٍ، وَلَكِنَّهُ كَلَامٌ عَرَبِيٌّ يَخْرُجُ عَلَى جَوَابِ السَّائِلِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ:" لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ"، وَلَيْسَ هَذَا بِاخْتِلَافٍ مِنَ الرِّوَايَةِ، إِنَّمَا هَذَا لَا فَرَعَةَ وَاجِبَةٌ وَلَا عَتِيرَةَ وَاجِبَةٌ، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ يَدُلُّ عَلَى مَعْنَى ذَا أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ الذَّبْحَ وَاخْتَارَ لَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً، أَوْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَالْعَتِيرَةُ هِيَ الرَّجَبِيَّةُ، وَهِيَ ذَبِيحَةٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَرَّرُونَ بِهَا فِي رَجَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَتِيرَةَ"، عَلَى مَعْنَى لَا عَتِيرَةَ لَازِمَةٌ، وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَيْثُ سُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ عَلَى مَعْنَى اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، أَيِ اذْبَحُوا إِنْ شِئْتُمْ وَاجْعَلُوا الذَّبْحَ لِلَّهِ لَا لِغَيْرِهِ فِي أِيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ لَا أَنَّهَا فِي رَجَبٍ دُونَ مَا سِوَاهُ مِنَ الشُّهُورِ.
مزنی فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے اپنے مالوں کو بابرکت بنانے کے لیے اپنی اونٹنی یا بکری کے بچے کو بغیر دودھ پلائے ذبح کر دیتے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ذبح کرنا چاہو تو کر لو۔“ اور انہوں نے پوچھا کہ وہ یہ کام جاہلیت میں کیا کرتے تھے، کہیں اسلام اس کو مکروہ تو نہیں سمجھتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ یہ حرام نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بچے کو غذا دی جائے، پھر اللہ کے راستہ میں اس پر سواری کی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْفَرَعُ» (فرع) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْفَرَعُ» حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں، اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْفَرَعُ» حق ہے، اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” «الْفَرَعُ» اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) نہیں ہے۔“ اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ” «الْعَتِيرَةُ» جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کر سکتے ہو۔“ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19348]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن اسلم بنو ضمرہ کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْفَرَعُ» (فرع) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْفَرَعُ» حق ہے اور تم اس بچے کو غذا دو یہاں تک کہ وہ دو تین سال کا مکمل اونٹ بن جائے تو کسی بیوہ کو دے دیا جائے یا اللہ کے راستے میں اس پر سواری کی جائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنے برتنوں کو انڈیل دیں، اپنی اونٹنی سے بچے کو چھین لیں اور اس کا گوشت بالوں کے ساتھ چپک جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْفَرَعُ» حق ہے، اس کا یہ معنیٰ ہے کہ باطل نہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ” «الْفَرَعُ» اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) نہیں ہے۔“ اس کا مقصد ہے کہ واجب نہیں ہے کیونکہ دوسری حدیث اس معنیٰ پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کو دینے یا اس پر فی سبیل اللہ سواری کی اجازت دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ” «الْعَتِيرَةُ» جس مہینہ میں تم ذبح کرنا چاہو کر سکتے ہو۔“ کیونکہ اسے اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے، کسی دوسرے کے نام کا ذبح نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19348]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19348 in Urdu