السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3868. -- باب: ما جاء في الضبع والثعلب
-- باب: بجو اور لومڑی کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19387
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ الدَّثَنِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ؟ فَقَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تَنْهَ عَنْهُ فَأَنَا آكُلُهُ. قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ؟ قَالَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تَنْهَ عَنْهُ فَإِنِّي آكُلُهُ. قَالَ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ؟ قَالَ:" لَا آكُلُهَا وَلَا أُحَرِّمُهَا". قَالَ: قُلْتُ: مَا لَمْ تُحَرِّمْهُ فَإِنَّى آكُلُهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟ قَالَ:" أَوَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟" فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهُ مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟ قَالَ أَوَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ"؟. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ حَبَّانَ بْنِ جَزْءٍ عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يُوَافِقُ السُّلَمِيَّ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ وَيُخَالِفُهُ فِي بَعْضِهِ، وَفِي كِلَا الْإِسْنَادَيْنِ ضَعْفٌ. وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الْحَجِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ جَعَلُوا فِي الضَّبُعِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ.
سیدنا عبدالرحمن بن معقل سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بجو کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کھاتا نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو منع نہیں کرتے تو میں کھالوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: گوہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کھاتا بھی نہیں اور منع بھی نہیں کرتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہیں کرتے تو میں کھاؤں گا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! خرگوش کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: ”میں اس کو کھاتا نہیں اور حرام بھی نہیں کہتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حرام نہیں کہتے تو میں کھاؤں گا۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! بھیڑیے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اسے کوئی کھاتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! لومڑی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لومڑی کو بھی کوئی کھاتا ہے؟“
(ب) سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جب محرم آدمی بجو کا شکار کرے تو اس کے عوض ایک مینڈھا ادا کرے گا۔
یہ حدیث سیدنا خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جو بعض باتوں میں سلمی کی حدیث کے موافق اور بعض میں مخالف ہے، اور دونوں سندوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19387]
(ب) سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ جب محرم آدمی بجو کا شکار کرے تو اس کے عوض ایک مینڈھا ادا کرے گا۔
یہ حدیث سیدنا خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جو بعض باتوں میں سلمی کی حدیث کے موافق اور بعض میں مخالف ہے، اور دونوں سندوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19387]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19387 in Urdu