السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3871. -- باب: ما جاء في الضب
-- باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: دُعِينَا لِعُرْسٍ بِالْمَدِينَةِ فَقُرِّبَ إِلَيْنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قُرِّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَمِنْ آكِلٍ وَتَارِكٍ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: تَزَوَّجَ فُلَانٌ فَقُرِّبَ إِلَيْنَا طَعَامٌ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قُرِّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَمِنْ آكِلٍ وَتَارِكٍ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَ مَا تَقُولُونَ، مَا بُعِثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحَلِّلًا وَمُحَرِّمًا، قُرِّبَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ، فَمَدَّ يَدَهُ لِيَأْكُلَ فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ:" هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ فَكُلُوا". قَالَ: فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.
شیبانی، یزید بن اصم سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ میں شادی کے موقع پر ہمیں کھانا دیا گیا جو ہم نے کھایا، اس کے بعد ہمارے سامنے تیرہ گوہ پیش کی گئیں، بعض نے کھا لیں اور بعض نے چھوڑ دیں۔ صبح کے وقت میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر پوچھا کہ کھانے کے بعد ہمارے سامنے تیرہ گوہ پیش کی گئیں تو بعض نے کھا لیں اور بعض نے چھوڑ دیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے کسی شخص نے یہ بات کہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میں کھاتا تو نہیں لیکن حرام بھی نہیں قرار دیتا، اس کے کھانے کا حکم بھی نہیں دیتا اور منع بھی نہیں کرتا۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: برا ہے جو تم کہتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حلال اور حرام قرار دینے والے ہی بنا کر بھیجے گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت پیش کیا گیا، جسے کھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ گوہ کا گوشت ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: ”میں نے اس گوشت کو کبھی نہیں کھایا، تم کھا لو۔“ تو فضل بن عباس اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ موجود ایک عورت نے کھا لیا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جو کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا میں نے بھی نہیں کھایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19416]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19416 in Urdu