🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3885. -- باب: ما جاء في استحباب ترك الاكتواء والاسترقاء
-- باب: داغنے (اكتواء) اور دم کروانے (استرقاء) کو ترک کرنے کے مستحب ہونے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ: أَيَّةُ سَاعَةٍ الْبَارِحَةَ كَانَ كَذَا وَكَذَا؟ فَقُلْتُ: كَذَا وَكَذَا، فَظَنَنْتُهُ ظَنَّ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي فَقُلْتُ: إِنِّي لُدِغْتُ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ: أَلَا اسْتَرْقَيْتَ؟ فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ. فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ". قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَعْتَافُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ رَوْحٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حُصَيْنٍ.
حصین بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا، انہوں نے فرمایا: ”(تم میں سے کس نے گزشتہ رات ستارہ ٹوٹتے دیکھا؟)“ میں نے کہا: ”میرا (یہ بتانا) اس لیے تھا تاکہ میرا یہ گمان نہ کیا جائے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) گزشتہ رات مجھے (کسی زہریلے جانور نے) ڈس لیا تھا۔“ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے دم کیا؟“ میں نے کہا کہ شعبی، بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» ”دم صرف نظرِ بد اور زہریلے جانور کے ڈسنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“ راوی نے پوچھا: وہ کون سے لوگ (ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نہ دم کرواتے ہیں اور نہ ہی بدشگونی لیتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19545]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19545 in Urdu