السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3888. -- باب: ما جاء في الاحتماء
-- باب: پرہیز (بیماری میں احتیاط) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19563
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفِ بْنِ أَحْمَدَ الصُّوفِيُّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرًا وَبَيْنَ يَدَيْهِ التَّمْرُ فَقَالَ:" تَعَالَ كُلْ". قَالَ: فَجَعَلْتُ آكُلُ التَّمْرَ، قَالَ:" تَأْكُلُ التَّمْرَ وَبِكَ رَمَدٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَمْضُغُهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى. قَالَ: فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبد الحمید بن زیاد بن صہیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ کھاؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے کھجوریں کھانی شروع کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجوریں کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھیں خراب ہیں؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19563]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19563 in Urdu