السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3892. -- باب: التمائم
-- باب: تمائم (تعویذ گنڈوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19604
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: تَخَتُّمَ الذَّهَبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالصُّفْرَةَ، يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَعَقْدَ التَّمَائِمِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا، وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: أَمَّا التِّوَلَةُ فَهِيَ بِكَسْرِ التَّاءِ وَهُوَ الَّذِي يُحَبِّبُ الْمَرْأَةَ إِلَى زَوْجِهَا، هُوَ مِنَ السِّحْرِ وَذَلِكَ لَا يَجُوزُ، وَأَمَّا الرُّقَى وَالتَّمَائِمُ فَإِنَّمَا أَرَادَ عَبْدُ اللهِ مَا كَانَ بِغَيْرِ لِسَانِ الْعَرَبِيَّةِ مِمَّا لَا يُدْرَى مَا هُوَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَالتَّمِيمَةُ يقَالُ إِنَّهَا خَرَزَةٌ كَانُوا يَتَعَلَّقُونَهَا يَرَوْنَ أَنَّهَا تَدْفَعُ عَنْهُمُ الْآفَاتِ، وَيُقَالُ قِلَادَةٌ تُعَلَّقَ فِيهَا الْعُوَذُ.
شیخ فرماتے ہیں: «تَمِیمَة» ایسی رسی یا ہار جو اس لیے لٹکاتے تھے تاکہ ان کے مصائب دور ہوں۔ ایسے ہار جس کو صرف پناہ کے لیے لٹکایا جائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: ”1۔ سونے کی انگوٹھی، 2۔ چادر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، 3۔ زردی لگانا، 4۔ بڑھاپے کو تبدیل کرنا، 5۔ «مُعَوِّذَتَیْنِ» کے علاوہ سے دم کرنا، 6۔ تعویذ لٹکانا، 7۔ «نَرْدَشِیر» سے کھیلنا، 8۔ بغیر محل کے زینت ظاہر کرنا، 9۔ پانی (منی) کو اس کے محل سے ہٹانا یعنی عزل کرنا، 10۔ بچے کو خراب کرنا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔“
ابو عبید فرماتے ہیں: «تِوَلَة» ایسا تعویذ جس سے عورت کو محبوب بنایا جائے۔ یہ جائز نہیں اور عربی زبان کے علاوہ تمائم جن کا پتہ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19604]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: ”1۔ سونے کی انگوٹھی، 2۔ چادر ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، 3۔ زردی لگانا، 4۔ بڑھاپے کو تبدیل کرنا، 5۔ «مُعَوِّذَتَیْنِ» کے علاوہ سے دم کرنا، 6۔ تعویذ لٹکانا، 7۔ «نَرْدَشِیر» سے کھیلنا، 8۔ بغیر محل کے زینت ظاہر کرنا، 9۔ پانی (منی) کو اس کے محل سے ہٹانا یعنی عزل کرنا، 10۔ بچے کو خراب کرنا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔“
ابو عبید فرماتے ہیں: «تِوَلَة» ایسا تعویذ جس سے عورت کو محبوب بنایا جائے۔ یہ جائز نہیں اور عربی زبان کے علاوہ تمائم جن کا پتہ نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19604]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19604 in Urdu