السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3897. -- باب: من أباح الاستصباح به
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اسے (ناپاک تیل یا گھی کو) چراغ جلانے میں استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 19625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ:" أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوا مَا بَقِيَ". فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السَّمْنُ مَائِعًا؟ قَالَ:" انْتَفِعُوا بِهِ وَلَا تَأْكُلُوهُ". عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ هَكَذَا وَالطَّرِيقُ إِلَيْهِ غَيْرُ قَوِيٍّ.
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی میں گر جانے والی چوہیا کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ”چوہیا کے ارد گرد والا گھی گرا کر باقی کھا لو۔“ کہا گیا: اے اللہ کے نبی! اگر گھی جامد نہ ہو تو؟ فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھاؤ لیکن کھانے میں استعمال نہ کرو۔“
عبدالجبار بن عمر قابلِ حجت نہیں، اور یہ روایت ابن جریج عن ابن شہاب سے بھی اسی طرح مروی ہے، لیکن ان تک سند قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19625]
عبدالجبار بن عمر قابلِ حجت نہیں، اور یہ روایت ابن جریج عن ابن شہاب سے بھی اسی طرح مروی ہے، لیکن ان تک سند قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19625]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19625 in Urdu