🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3903. -- باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَإِنَّمَا يُوَجَّهُ هَذَا الْحَدِيثُ يَعْنِي حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي الرُّخْصَةِ أَنَّهُ رَخَّصَ فِيهِ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ الَّذِي لَا شَيْءَ مَعَهُ يَشْتَرِي بِهِ، وَهُوَ مُفَسَّرٌ فِي حَدِيثٍ آخَرَ حَدَّثَنَاهُ الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ إِذَا مَرَّ بِالْحَائِطِ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَلَا يَتَّخِذَ خُبْنَةً. ⦗٦٠٥⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِمَّا يبَيِّنُ ذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأَنْصَارِ الَّذِينَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى فَأَبَوْا، فَسَأَلُوهُمُ الشِّرَى فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَهَمَّ بِالْأَعْرَابِ، وَقَالَ: ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَهَذَا مُفَسَّرٌ إِنَّمَا هُوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى قِرًى وَلَا شِرًى. وَكَذَلِكَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ: لِيُصَوِّتْ، يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا؛ لِيَكُونَ طَلَبُ الْقِرَى قَبْلُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْإِبِلُ نَلْقَاهَا وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ. قَالَ:" تُنَادِي يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَاحْلُبْ ثُمَّ دَعْ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: وَاحْلُبْ ثُمَّ صُرَّ وَبَقِّ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمرو بن شعیب کی احادیث میں رخصت ہے، ایسا انسان جو کچھ خرید نہیں سکتا اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب باغ کے پاس سے گزرے تو کھا لے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انصار ایک عرب قبیلہ کے پاس سے گزرے، جب ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان سے کچھ مال لے لیا۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے دیہاتی لوگوں کا قصد کیا اور فرمایا: مسافر لوگ جس پانی کے چشمہ پر واقع ہوں اس کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ ابو عبید رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر یہ بیان کی، جو مہمان نوازی اور کچھ خریدنے کی طاقت نہ رکھے۔ وہ چرواہے کو تین آوازیں لگائے تاکہ وہ اس سے مہمانی کا مطالبہ کر سکے۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن مخول اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم اونٹوں سے ملتے ہیں ہمیں دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ انہوں نے دودھ روکا ہوتا ہے تو ”چرواہے کو تین آوازیں دو۔ اگر جواب ملے تو درست وگرنہ دودھ دوہ لیا کرو۔ پھر دوہنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ پھر دودھ اور دودھ روک دے تاکہ چرواہے دودھ دوہ سکیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19657]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19657 in Urdu