السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3905. -- باب: : صاحب المال لا يمنع المضطر فضلا، إن كان عنده
-- باب: صاحبِ مال ضرورت مند مجبور شخص کو اپنی ضرورت سے زائد مال دینے سے باز نہ رہے، بشرطیکہ وہ اس کے پاس موجود ہو۔
حدیث نمبر: 19666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ، فَجَعَلَ يَصْرِفُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ ظَهْرٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ"، وَذَكَرَ أَصْنَافَ الْأَمْوَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ عِنْدَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک آدمی اونٹ پر سوار آیا وہ دائیں بائیں گھوم رہا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد سواری ہو، وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو، وہ اس کو دے دے جس کے پاس نہیں ہے۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی اقسام ذکر کیں تو ہم نے خیال کیا کہ زائد مال میں ہمارا کوئی حق ہی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19666]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٧٢٨»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19666 in Urdu