السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3913. -- باب: ما حرم على بني إسرائيل، ثم ورد عليه النسخ بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم
-- باب: ان چیزوں کا بیان جو بنی اسرائیل پر حرام کی گئی تھیں، پھر ہمارے نبی محمد ﷺ کی شریعت نے انہیں منسوخ کر دیا۔
حدیث نمبر: 19704
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" هُوَ مَا كَانَ اللهُ أَخَذَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمِيثَاقِ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ، أَنْ يَضَعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَلَمْ يَبْقَ خَلْقٌ يَعْقِلُ مُنْذُ بَعَثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ جِنٍّ وَلَا إِنْسٍ، بَلَغَتْهُ دَعْوَتُهُ، إِلَّا قَامَتْ عَلَيْهِ حُجَّةُ اللهِ بِاتِّبَاعِ دِينِهِ، وَلَزِمَ كُلَّ امْرِئٍ مِنْهُمْ تَحْرِيمُ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ، وَإِحْلَالُ مَا أَحَلَّ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے ان سے پختہ وعدہ لیا تھا، ان کے بارے میں جو ان پر حرام قرار دیا کہ وہ ان چیزوں کو ان سے ہٹا دے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب سے اللہ عزوجل نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے، جن و انس میں سے کوئی عقل مند مخلوق ایسی نہیں بچی جس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی ہو مگر اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اتباع کے بارے میں اللہ کی حجت قائم ہو گئی اور ہر آدمی کے لیے وہ حرام تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حرام قرار دیا اور وہی حلال تھا جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19704]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب سے اللہ عزوجل نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے، جن و انس میں سے کوئی عقل مند مخلوق ایسی نہیں بچی جس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی ہو مگر اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اتباع کے بارے میں اللہ کی حجت قائم ہو گئی اور ہر آدمی کے لیے وہ حرام تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حرام قرار دیا اور وہی حلال تھا جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19704]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19704 in Urdu