🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3914. -- باب: ما حرم المشركون على أنفسهم
-- باب: مشرکین نے جن چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19710
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٧⦘ وَعَلَيَّ أَطْمَارٌ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مِنْ أِيِّ الْمَالِ"، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الشَّاءِ وَالْإِبِلِ، قَالَ:" فَلْتُرَ نِعْمَةُ اللهِ وَكَرَامَتُهُ عَلَيْكَ"، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُكَ وَافِيَةً آذَانُهَا؟"، قَالَ:" وَهَلْ تُنْتَجُ إِلَّا كَذَلِكَ؟"، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ:" فَلَعَلَّكَ تَأْخُذُ مُوسَاكَ، فَتَقْطَعُ أُذُنَ بَعْضِهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بَحِيرٌ وَتَشُقُّ أُذُنَ أُخْرَى، فَتَقُولُ: هَذِهِ صُرُمٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ كُلَّ مَا آتَاكَ اللهُ حِلٌّ، وَإِنَّ مُوسَى اللهِ أَحَدُّ، وَسَاعِدَ اللهِ أَشَدُّ"، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمْ يَقْرِنِي، وَلَمْ يُضَيِّفْنِي، ثُمَّ مَرَّ بَعْدَ ذَلِكَ، أَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ:" بَلْ أَقْرِهِ".
سیدنا ابواحوص جشمی رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے اوپر پرانے کپڑے تھے، اس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سا مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: بکریاں اور اونٹ وغیرہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کی نعمتوں اور فضل کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اونٹنی بچے جنم دیتی ہے تو کیا ان کے کان پورے ہوتے ہیں؟“ وہ کہتے ہیں: جی ہاں، اسی طرح ہی ہوتا ہے۔ (لیکن ابھی وہ مسلمان نہ ہوئے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا استرہ لے کر بعض کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ «بَحِيرَةٌ» ”بحیرہ“ ہے، اور بعض کے کانوں کو پھاڑ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ «صُرُمٌ» ”صرام“ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح نہ کرو، جو اللہ نے تمہیں دیا ہے وہ حلال ہے اور اللہ کا ہتھیار زیادہ تیز ہے اور اللہ کی مدد زیادہ سخت ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایک آدمی کے پاس جاؤں اور وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا لیکن بعد میں وہی شخص میرے پاس آتا ہے تو میں بدلہ لوں یا مہمان نوازی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مہمان نوازی کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19710]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19710 in Urdu