السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3922. -- باب: ما جاء في المصارعة
-- باب: کشتی کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ فِي كُلِّ عَامٍ، فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ، قَالَ:" وَعُرِضْتُ عَامًا، فَأَلْحَقَ غُلَامًا وَرَدَّنِي"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اللهِ، لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي، وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ، ⦗٣٢⦘ قَالَ:" فَصَارِعْهُ"، فَصَارَعْتُهُ، فَصَرَعْتُهُ، فَأَلْحَقَنِي..
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہر سال انصار کے بچے پیش کیے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے اسے اپنے ساتھ ملا لیتے جو بالغ ہو چکا ہوتا۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں بھی ایک سال پیش کیا گیا۔ ایک بچے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کر دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کر دیا، اگر میں اس کے ساتھ کشتی میں مقابلہ کروں تو میں اس کو گرا دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشتی کرو۔“ میں نے اس سے کشتی کی تو میں نے اس کو گرا دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السبق والرمي/حدیث: 19760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 9/17810»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19760 in Urdu