السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3938. -- باب: شبهة من زعم أن لا كفارة في اليمين إذا كان حنثها طاعة
-- باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 19861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ"، إِلَّا مَا لَا يُعْبَأُ بِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَكَانَ لِذَلِكَ أَهْلًا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام احادیث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیں ان میں یہ ہے کہ ”وہ اپنی قسم کا کفارہ دے“ سوائے اس روایت کے جو قابلِ التفات نہیں۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا: یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی احادیث منکر ہیں اور اس کا والد غیر معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19861]
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا: یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی احادیث منکر ہیں اور اس کا والد غیر معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19861]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لاحمد»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19861 in Urdu