السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3945. -- باب: من قال: الله لأفعلن كذا، أو لم أفعل كذا، ينوي به يمينا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے یوں کہا: ”اللہ! میں ضرور ایسا کروں گا، یا میں ایسا نہیں کروں گا“ اور اس سے اس کی نیت قسم کی ہو۔
حدیث نمبر: 19906
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ: فَقَالَ:" مَا نَوَيْتَ بِذَلِكَ"؟ قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ:" آللَّهِ"، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ:" فَهُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ"،.
عبداللہ بن علی بن رکانہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو «أَلْبَتَّةَ» ”البتہ“ طلاق دے دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تیری نیت کیا تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: ایک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے ارادے پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19906]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19906 in Urdu