🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3955. -- باب: الكفارة بعد الحنث
-- باب: قسم توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19948
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا أَيُّوبُ، ح، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ ثنا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَعَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ:" كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ إِخَاءٌ"، قَالَ:" فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي مِنْ تَيْمِ اللهِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" ادْنُ فَكُلْ"، يَعْنِي فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ نَتِنًا، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا"، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ"، ثُمَّ حَدَّثَ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ يَسْتَحْمِلُهُ فَأَتَاهُ وَهُوَ يَقْسِمُ ذَوْدًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَقُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللهِ، احَمِلْنَا"، وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقَالَ:" وَاللهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، ثُمَّ أُتِيَ بِنَهْبِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَأَعْطَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَقُلْتُ:" تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا:" يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللهَ حَمَلَكُمْ، وَاللهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُ عَنْ يَمِينِي". لَفْظُ حَدِيثِ وُهَيْبٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ عَنْ عَفَّانَ.
زہدم جرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اور اشعریوں کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا۔ لوگوں میں ایک سرخ رنگ کا آدمی تھا جو تیم اللہ قبیلے کے غلاموں کے مشابہ تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: قریب ہو کر کھاؤ۔ اس نے کہا: میں نے اسے گندگی کھاتے ہوئے دیکھا تھا، اس لیے میں نے قسم کھائی تھی کہ اسے نہیں کھاؤں گا۔ انہوں نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ یہ گوشت کھاتے تھے۔ پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اشعریوں کے گروہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کی طلب میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹ تقسیم فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی سواری دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصے میں تھے، فرمانے لگے: ”میں تمہیں سواری نہ دوں گا اور نہ میرے پاس ہے، اللہ کی قسم!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلند کوہانوں والے اونٹ لائے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ اونٹ دے دیے۔ میں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غافل کر دیا، یعنی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) قسم بھلا بیٹھے، ہم فلاح نہ پائیں گے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سواری نہ دینے پر قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے، میں نے تمہیں سواریاں مہیا نہیں کیں، لیکن جب میں کسی کام پر قسم اٹھاتا ہوں اور دوسرا کام اس سے بہتر ہو تو وہ کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور اپنی قسم کو چھوڑ دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19948]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19948 in Urdu