السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3960. -- باب: ما يجوز في عتق الكفارات
-- باب: کفارات میں غلام آزاد کرنے کے حوالے سے کیا جائز ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 19986
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلِيدَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي عَلَيَّ رَقَبَةٌ مُؤْمِنَةٌ، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً، أُعْتِقْهَا"، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟"، قَالَتْ:" نَعَمْ"، قَالَ:" أَفَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟"، قَالَتْ:" نَعَمْ"، قَالَ:" أَعْتِقْهَا". ⦗٩٩⦘ هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ قِيلَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَقَدْ قِيلَ: عَنْ عَوْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الظِّهَارِ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی اپنی سیاہ لونڈی کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی کا آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ اگر آپ اس کو مومنہ خیال کریں تو میں اس کو آزاد کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں؟“ کہنے لگی: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو موت کے بعد زندہ ہونے پر یقین رکھتی ہے؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19986]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19986]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن كثير 2/ 374»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19986 in Urdu