🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3981. -- باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى
-- باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ بْنِ وَاقِدٍ الْكِلَابِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى وَفِيهِ قَالَ: وَأُسِرَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتِ الْعَضْبَاءُ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ، وَكَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ أَيْدِي بُيُوتِهِمْ، فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ، فَأَتَتِ الْإِبِلَ، فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنَ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُكُهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى الْعَضْبَاءِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ: وَنَاقَةٌ مَنُوقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا، ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذَرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا:" الْعَضْبَاءُ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ نَذَرَتْ إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ بِئْسَ مَا جَزَتْهَا إِنِ اللهُ أَنْجَاهَا عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
ابو مہلب سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف، قبیلہ بنو عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ رضی اللہ عنہما کو قیدی بنا لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک آدمی کو قید کر لیا اور انہوں نے اس کی اونٹنی بھی قبضے میں لے لی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ انصاری عورت قیدی بنائی گئی۔ عضباء اونٹنی چوری کر لی گئی۔ وہ عورت قید میں تھی اور لوگ اپنے جانور اپنے گھروں کے سامنے چراتے تھے۔ وہ عورت ایک رات قید سے نکلی اور کھسک کر اونٹوں کے پاس پہنچ گئی۔ جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عضباء اونٹنی تک پہنچ گئی۔ اس نے آواز نہ نکالی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ نکیل والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس کی پشت پر بیٹھ گئی، پھر اسے ڈانٹ کر ہانکا تو وہ چل پڑی۔ انہیں اس کا پتہ چل گیا، انہوں نے اس عورت کو تلاش کرنا چاہا تو اس عورت نے ان کو عاجز کر دیا۔ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ جب وہ مدینہ آئی تو لوگوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے کہ عضباء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے۔ کسی نے کہا: اس عورت نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے اس پر نجات دی تو وہ اسے ذبح کرے گی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس بات کا انہوں نے تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پاک ہے، اگر اللہ نے اس اونٹنی پر اس کو نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی، یہ برا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور جس کا بندہ مالک نہیں (اس میں بھی نذر نہیں)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20090]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1641»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20090 in Urdu