السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3981. -- باب: ما يوفى به من النذور، وما لا يوفى
-- باب: ان نذروں کا بیان جو پوری کی جائیں گی اور جو پوری نہیں کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 20097
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى قُبَّةَ امْرَأَةٍ، فَسَلَّمَ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ، فَلَمْ يَتْرُكْهَا حَتَّى كَلَّمَتْهُ، قَالَتْ:" يَا عَبْدَ اللهِ، مَنْ أَنْتَ؟"، قَالَ:" مِنَ الْمُهَاجِرِينَ"، قَالَتْ:" الْمُهَاجِرُونَ كَثِيرٌ، فَمِنْ أَيِّهِمْ أَنْتَ؟"، قَالَ: فَقَالَ:" مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالَتْ:" قُرَيْشٌ كَثِيرٌ، فَمِنْ أَيِّهِمْ أَنْتَ؟"، قَالَ:" أَنَا أَبُو بَكْرٍ"، قَالَتْ:" بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ، فَحَلَفْتُ إِنِ اللهُ عَافَانَا أَنْ لَا أُكَلِّمَ أَحَدًا حَتَّى أَحُجَّ"، قَالَ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ هَدَمَ ذَلِكَ، فَتَكَلَّمِي".
(٢٠٠٩٧) زید بن وہب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ایک عورت کے خیمہ کے پاس آئے۔ اس پر سلام کہا، اس نے کلام نہ کی۔ انھوں نے بھی کلام کرنے تک اس کو نہ چھوڑا۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کی بندے! آپ کون ہیں؟ فرمایا: مہاجرین میں سے۔ کہنے لگی: کون سیمہاجرین؟ کیونکہ مہاجرین بہت زیادہ ہیں۔ فرمایا: قریش سے۔ کہنے لگی: قریش بہت زیادہ ہیں آپ کن میں سے ہیں؟ فرمایا: میں ابوبکر ہوں۔ کہنے لگی: میرے ماں باپ قربان! ہمارے اور قوم کے درمیان جاہلیت میں کچھ معاہدہ تھا۔ میں نے حج کرنے تک قسم اٹھائی کہ کسی سے کلام نہ کروں گی۔ فرمایا: اسلام نے اس کو ختم کردیا ہے، تو کلام کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20097]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20097 in Urdu