السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4002. -- باب: فضل المؤمن القوي الذي يقوم بأمر الناس، ويصبر على أذاهم
-- باب: اس طاقتور مومن کی فضیلت کا بیان جو لوگوں کے معاملات سنبھالتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 20176
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَسْعَسَ بْنِ سَلَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ:" إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَخْلُوَ بِعِبَادَةِ رَبِّي، وَأَعْتَزِلَ النَّاسَ"، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَفْعَلْهُ، وَلَا يَفْعَلْهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ"، قَالَهَا ثَلَاثًا،" فَلَصَبْرُ سَاعَةٍ فِي بَعْضِ مَوَاطِنِ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا خَالِيًا".
(٢٠١٧٦) ععس بن سلامہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، اپنے ایک ساتھی کو گم پایا اس کو لایا گیا، اس نے کہا: میرا دل چاہتا ہے کہ میں لوگوں سے جدا رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسا کر اور نہ ہی تم میں سے کوئی ایسا کرے۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کہی۔ پھر فرمایا: کسی ایک گھڑی مسلمانوں کی مجالس میں صبر کرلینا یہ چالیس سال کی تنہائی میں عبادت سے بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20176]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20176 in Urdu