السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
413. -- باب: رزق المؤذن
-- باب: مؤذن کی تنخواہ (یا وظیفے) کا بیان
حدیث نمبر: Q2019
قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ أَرْزَقَ الْمُؤَذِّنِينَ أَمَامُ هُدًى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَاحْتَجَّ فِي جَوَازِ الِاحْتِمَالِ عَلَى تَعْلِيمِ الْخَيْرِ بِمَا رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّدَاقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ زَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”امامِ ہدیٰ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مؤذنوں کے لیے وظیفہ مقرر فرمایا تھا۔“ اور انہوں نے نیکی کی تعلیم دینے پر اجرت لینے کے جواز پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو ہم نے کتاب الصداق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا نکاح قرآن مجید کی ایک سورت (سکھانے) کے عوض کر دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2019]
حدیث نمبر: 2019
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْبِسْطَامِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ - أَوْ سَلَيْمٌ - فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ فَإِنَّ فِي الْمَاءِ لَدِيغًا - أَوْ سَلِيمَا - فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَلَمَّا أَتَى أَصْحَابَهُ كَرِهُوا ذَلِكَ وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَجْرًا، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سِيدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ حِينَ قَضَى التَّأْذِينَ فَأَعْطَاهُ صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت عرب کے کسی قبیلے کے پاس سے گزری اور ان کے پاس بچھو کا ڈسا ہوا ایک شخص لایا گیا یا وہ سخت زخمی تھا، انہوں نے پوچھا: کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ پانی میں بچھو ڈسا ہے یا فرمایا: یہ سخت زخمی ہے، ان میں ایک شخص اٹھا اور اس نے بکریوں کے عوض دم کیا تو وہ صحیح ہو گیا، جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا اور کہا: تم نے اللہ کی کتاب پر مزدوری لی ہے، وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ حق دار جس پر تم مزدوری لو اللہ کی کتاب ہے۔“
(ب) سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، جس وقت انہوں نے پوری اذان دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک تھیلی دی، اس میں کچھ چاندی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2019]
(ب) سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، جس وقت انہوں نے پوری اذان دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک تھیلی دی، اس میں کچھ چاندی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 2156»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2019 in Urdu