السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4003. -- باب: ما يستدل به على أن القضاء وسائر أعمال الولاة مما يكون أمرا بمعروف، أو نهيا عن منكر من فروض الكفايات
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20203
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ - يَعْنِي: ابْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنَ الْحَبَشَةِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَعْجَبُ شَيْءٍ رَأَيْتَ؟" قَالَ: رَأَيْتُ امْرَأَةً عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلٌ مِنْ طَعَامٍ، فَمَرَّ فَارِسٌ يَرْكُضُ فَأَذْرَاهُ فَجَعَلَتْ تَجْمَعُ طَعَامَهَا وَقَالَتْ:" وَيْلٌ لَكَ، يَوْمَ يَضَعُ الْمَلِكُ كُرْسِيَّهُ، فَيَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصْدِيقًا لِقَولِهَا:" لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ"، أَوْ:" كَيْفَ قُدِّسَتْ؟ لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا، وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ". ⦗١٦١⦘.
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے تعجب میں ڈالا؟“ کہنے لگے: میں نے ایک عورت کو دیکھا، اس کے سر پر کھانے کا ٹوکرا تھا۔ اس کے پاس سے ایک شہسوار گزرا، وہ ایڑ لگا رہا تھا۔ اس نے اس کا وہ کھانا بکھیر دیا۔ وہ اپنا کھانا جمع کرنا شروع ہوئی اور کہنے لگی: تیری ہلاکت ہو جب مالک اپنی کرسی رکھے گا، وہ مظلوم کا حق ظالم سے لے کر دے گا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے قول کی تصدیق کی۔ فرمایا: ”کوئی امت پاک نہ کی جائے گی“ یا فرمایا: ”کیسے پاک کی جائے گی جبکہ اس امت کے کمزور کو قوی سے اس کا حق بغیر کسی پریشانی کے نہ دلایا جائے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20203]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20203 in Urdu