السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4004. -- باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا
-- باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20221
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْعَلَاءِ الْيَشْكُرِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ سَرْجِ بْنِ عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الْقُضَاةُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ:" يُؤْتَى بِالْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْحِسَابِ مَا يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ". كَذَا فِي كِتَابِي عُمَرُ بْنُ الْعَلَاءِ.
عمران بن حطان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان کے پاس قاضی کے عہدہ کا تذکرہ کیا گیا، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن عادل قاضی کو لایا جائے گا وہ شدتِ حساب کی وجہ سے تمنا کرے گا کہ وہ ایک کھجور کا بھی فیصلہ دو کے درمیان نہ کرتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20221]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20221 in Urdu