السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4005. -- باب: كراهية طلب الإمارة والقضاء وما يكره من الحرص عليهما والتسرع إليهما، وأنه إذا ابتلي بهما عن غير مسألة كان الأمر أسهل، وإلى النجاة أقرب
-- باب: امارت اور قضاء مانگنے کی کراہت، ان کی حرص کرنے اور ان کی طرف جلد بازی کرنے کی ناپسندیدگی کا بیان، اور یہ کہ اگر اسے مانگے بغیر اس آزمائش میں ڈال دیا جائے تو معاملہ آسان ہوتا ہے اور نجات کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20250
وَرُوِيَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو النَّصْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ الْحَنَّاطُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ مِرْدَاسٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ، وَسَأَلَ عَلَيْهِ الشُّفَعَاءَ، وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أُكْرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللهُ عَلَيْهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَلَكًا يُسَدِّدُهُ". قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قضا کا عہدہ طلب کیا، سفارش کروائی، وہ اسی کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو مجبور کیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کو سیدھا رکھتا ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا ہے، فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے اور یہ اسرائیل عن عبدالاعلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20250]
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے، جیسا کہ مجھے ان سے پہنچا ہے، فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے اور یہ اسرائیل عن عبدالاعلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20250]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20250 in Urdu