السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4006. -- باب: ما يستحب للقاضي من أن يقضي في موضع بارز للناس، لا يكون دونه حجاب، وأن يكون متوسط المصر
-- باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ لوگوں کے سامنے کھلی جگہ پر فیصلے کرے، اس کے اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ (رکاوٹ) نہ ہو، اور وہ شہر کے وسط میں ہو۔
حدیث نمبر: 20256
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا:" اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي"، فَقَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي، فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَانْتَهَتْ إِلَى بَابِهِ، فَلَمْ تَجِدْ بَوَّابِينَ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ لَهَا:" الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ". ⦗١٧٤⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے: کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے، وہ قبر کے پاس رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ کہنے لگی: اپنے آپ کو لازم پکڑو، میرے جیسی مصیبت آپ کو نہیں پہنچی۔ اس عورت سے کہا گیا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اس پر موت جیسی کیفیت طاری ہو گئی، وہ آپ کے دروازے تک پہنچی۔ کوئی دربان نہ پا کر اندر داخل ہوئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہچان نہ سکی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بی بی! صبر صدمہ کی ابتدا میں ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20256]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20256 in Urdu