السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4020. -- باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان
-- باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20345
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ، أَنَّهُ قَامَ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ:" يَا ابْنَ عَمِّي، أُكْرِهْنَا عَلَى الْقَضَاءِ"، فَقَالَ زَيْدٌ:" اقْضِ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللهِ، فَفِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَادْعُ أَهْلَ الرَّأْيِ، ثُمَّ اجْتَهِدْ وَاخْتَرْ لِنَفْسِكَ، وَلَا حَرَجَ".
مسلمہ بن مخلد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے میرے چچا زاد! ہم فیصلوں پر مجبور کر دیے گئے ہیں، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ فرمائیں۔ اگر کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو پھر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موافق فیصلہ کرنا، وگرنہ اہل الرائے کو بلا کر مشورہ کریں، پھر اجتہاد کریں اور اپنی رائے کو اختیار کر لیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20345]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20345 in Urdu