السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4020. -- باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان
-- باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20347
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ:" هَذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ:" الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، فَتَعَرَّفِ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ، ثُمَّ قِسِ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَاعْمِدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللهِ، وَأَشْبَهِهَا فِيمَا تَرَى".
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط دیا کہ یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے نام ہے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے: سمجھو! خوب سمجھو! جو معاملہ تمہارے دل میں شکوک و شبہات پیدا کر دے اور وہ قرآن و سنت میں بھی موجود نہ ہو تو اس طرح کے معاملات کو پہچاننے کی کوشش کرو، پھر معاملات کو قیاس کر لو اور اس کا قصد کرو جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو اور اس کے زیادہ مشابہ ہو جو تمہاری رائے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20347]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20347 in Urdu