السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4026. -- باب: وعظ القاضي الشهود، وتخويفهم وتعريفهم عند الريبة، بما في شهادة الزور من كبير الإثم، وعظيم الوزر
-- باب: قاضی کا گواہوں کو نصیحت کرنے، انہیں ڈرانے اور شک کی صورت میں انہیں جھوٹی گواہی کے بڑے گناہ اور عظیم بوجھ سے آگاہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، ح، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟" ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا، حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ". لَفْظُ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ" وَقَالَ:" شَهَادَةُ الزُّورِ" ثَلَاثًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ.
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بكرة رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ» ”سب سے بڑے گناہوں“ کی خبر نہ دوں؟“ تین بار فرمایا، انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”1 اللہ کے ساتھ شرک کرنا 2 والدین کی نافرمانی۔“ راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”خبردار! جھوٹی گواہی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے کہا: کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جائیں۔
(ب) ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں؟“ اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی“ تین بار فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20380]
(ب) ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں؟“ اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی“ تین بار فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20380]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20380 in Urdu