🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4027. -- باب: مسألة القاضي عن أحوال الشهود ففي الناس بر وفاجر وأمين وخائن، وقد قال الله تعالى: ممن ترضون من الشهداء
-- باب: قاضی کا گواہوں کے احوال دریافت کرنے کا بیان کیونکہ لوگوں میں نیک و بد اور امانت دار و خائن سب ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q20385
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282] .
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“ [سورة البقرة: 282] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: Q20385]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20385
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَأنبأ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثَيْنِ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا:" أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنَ رَفْعِهَا فَقَالَ:" يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي، حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَحَتَّى يُقَالَ لِرَجُلٍ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ وَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ"، ⦗٢٠٩⦘ قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُهُ، لَئِنْ كَانَ مُؤْمِنًا لَيَرُدَّنَّ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمُ، فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو احادیث بیان کیں۔ ایک کو تو میں نے دیکھ لیا دوسری کا انتظار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ”امانت آدمیوں کے دلوں میں نازل ہوئی، قرآن نازل ہوا، انہوں نے قرآن کو سیکھا اور سنت کو سیکھا۔“ پھر ان کے اٹھ جانے کے متعلق بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، صرف ایک نشان باقی رہ جاتا ہے، پھر آدمی سو جائے گا تو امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، صرف ایک جلد کے پھولنے کے مانند نشان رہ جائے گا، جیسے پاؤں کے اوپر کوئلہ گر گیا ہو، اس کی وجہ سے جلد پھول جاتی ہے لیکن اندر کچھ بھی نہیں ہوتا، صبح کے وقت لوگ آپس میں خرید و فروخت کریں گے، کوئی ایک بھی اس کو ادا کرنے والا نہ ہوگا، یہاں تک کہ کہہ دیا جائے گا: فلاں قبیلہ میں ایک امین رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ کتنا ہی باہمت اور عقل مند ہے حالانکہ اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی نہ ہوگی۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے اوپر ایسا زمانہ آیا کہ میں پروا ہی نہ کرتا تھا کہ کس سے خرید و فروخت کروں، اگر وہ مومن ہے تو اس کا دین میری طرف لوٹا دے گا، اگر وہ یہودی یا عیسائی ہے تو اس کا نگران (حاکم) لوٹا دے گا، لیکن آج تو میں صرف فلاں اور فلاں سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20385]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20385 in Urdu